اسلامی تہذیب کا عروج ، توسیع ، زوال اور انبعاث؛ اس دنیا کی تاریخ میں
ایک عظیم ترین رزمیہ کو بیان کرتا ہے۔ گذشتہ چودہ سوسال کے عرصے میں مسلم
فلاسفہ و شعرا، فنکار و سائنسدان، امرا و مزدور مل کر ایسی منفرد ثقافت
تیار کرتے ہیں کہ جو بلاوسطہ یا بلواسطہ ہر براعظم پر موجود معاشرے کو
متاثر کرچکی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اولاً، مسلم نظریۂ جہاد --- جس کا بہتر ترجمہ
جدوجہد یا کوشش کیا جانا چاہیے بجائے کہ فقط ' مقدس جنگ ' کیا جائے ---
نے اسلامی قوتوں کو متحرک کیا۔ لیکن حکمرانوں کی جانب سے ، مذہب کو
پھیلانے کی خاطر بڑے پیمانے پر جنگی جدوجہد ، کے طور پر جہاد کو کم ہی
توجہ حاصل رہی۔ وہ چیز جس نے جلد ہی تعمیرِ مملکت کے لیے محوری قوت کی
حیثیت حاصل کرلی وہ فتح ہونے والے علاقوں کی حکومتی اور شہری تنظیم میں
کیا جانے والا منطقی ، منصف اور بامروت (انسان صفت) طرزِ عمل تھا، وہ طرزِ
عمل اسلام کی الہامی کتاب میں واضح مقرر کی گئی ہدایات کا عکاس تھا۔
تصوف (sufism) کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوبِ عمل کے لیۓ اختیار کیا جاتا
ہے جس پر کوئی صوفی (جمع: صوفیاء) عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے
صوفی ، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ ؛ تصوف کو قرآنی اصطلاح میں
تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا
تعریف بیان کرنے والے اشخاص تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے
ہیں؛ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء اکرام بھی اس ہی تصوف کی
جانب مراد لیتے ہیں۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوۓ
کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نا صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار
کیا بلکہ ان کو رد بھی کیا۔ تصوف کا لفظ ، اسلامی ممالک (بطور خاص برصغیر
) میں روحانیت ، ترکِ دنیا داری اور اللہ سے قربت حاصل کرنے کے مفہوم میں
جانا جاتا ہے اور مسلم علماء میں اس سے معترض اور متفق ، دونوں اقسام کے
طبقات پاۓ جاتے ہیں؛ کچھ کے خیال میں تصوف شریعت اور قرآن سے انحراف کا
نام ہے اور کچھ اسے شریعت کے مطابق قرار دیتے ہیں۔ اس لفظ تصوف کو متنازع
کہا بھی جاسکتا ہے اور نہیں بھی؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو اشخاص خود تصوف
کے طریقۂ کار سے متفق ہیں وہ اس کو روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کے لیۓ قرآن
و شریعت سے عین مطابق قرار دیتے ہیں اور جو اشخاص تصوف کی تکفیر کرتے وہ
اس کو بدعت کہتے ہیں اور شریعت کے خلاف قرار دیتے ہیں یعنی ان دونوں
(تصوف موافق و تصوف مخالف) افراد کے گروہوں کے نزدیک تصوف کوئی متنازع شے
نہیں بلکہ ان کے نزدیک تو معاملہ صرف توقیر اور تکفیر کا ہے۔ دوسری جانب
وہ افراد ، عالم یا محققین (مسلم اور غیرمسلم) کہ جو مسلمانوں میں موجود
تمام فرقہ جات کا تقابلی جائزہ لیتے ہوۓ تصوف کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان
کے نزدیک تصوف کا شعبہ مسلمانوں کے مابین ایک متنازع حیثیت رکھتا ہے
سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے علاوہ دس غیر مستقل اراکین بھی
ہوتے ہیں جن کو جنرل اسمبلی دو دو سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔(مزید)
تمام متن تخلیقی العام انتساب / مماثل-شراکت اجازہ کے تحت دستیاب ہے؛
اضافی شرائط بھی عائد ہوسکتی ہیں۔ تفصیل کے لیے استعمال کی شرائط دیکھیے
